
پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی IMF پروگرام کا مرکزی نکتہ نہیں، محصول
اسلام آباد (22 ستمبر 2026): وزارت خزانہ نے پاکستان کے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پروگرام سے متعلق گمراہ کن رپورٹنگ پر تفصیلی وضاحت جاری کر دی۔ وزارت خ
Key Takeaways
- →اسلام آباد (22 ستمبر 2026): وزارت خزانہ نے پاکستان کے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پروگرام سے متعلق گمراہ کن رپورٹنگ پر تفصیلی وضاحت جاری کر د
Key Takeaways
- اسلام آباد (22 ستمبر 2026): وزارت خزانہ نے پاکستان کے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پروگرام سے متعلق گمراہ کن رپورٹنگ پر تفصیلی وضاحت جاری کر د
اسلام آباد (22 ستمبر 2026): وزارت خزانہ نے پاکستان کے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پروگرام سے متعلق گمراہ کن رپورٹنگ پر تفصیلی وضاحت جاری کر دی۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ آئی ایم ایف پروگرام حکومت کا مجموعی پروگرام ہے یہ صرف وزارت خزانہ کا پروگرام نہیں، اس میں وزارت خزانہ، منصوبہ بندی، توانائی، صوبائی حکومتیں، ایف بی آر، اسٹیٹ بینک اور دیگر ادارے شامل ہیں، متعلقہ وزارتیں، ادارے اصلاحات اور اہداف کے تعین کیلیے تکنیکی مذاکرات میں حصہ لیتے ہیں، یہ صرف اعداد و شمار یا مالیاتی اہداف تک محدود نہیں، اس میں معاشی ترقی، سماجی تحفظ، گورننس، توانائی اور موسمیاتی لچک سمیت وسیع اصلاحات شامل ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ آئی ایم ایف پروگرام کا مقصد معاشی استحکام، پائیدار اور جامع اقتصادی ترقی کیلیے اصلاحات آگے بڑھانا ہے، پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی پروگرام کا مرکزی نکتہ نہیں بلکہ متعدد محصولاتی ذرائع میں سے ایک ہے، اس کی مالیاتی حکمت عملی میں ایف بی آر محصولات، ٹیکس بنیاد میں توسیع اور صوبائی ٹیکس و اخراجات کو معقول بنانا شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف کا وفد مذاکرات کیلئے 23 ستمبر کو پاکستان آئے گا
’مالی سال 27-2026 کے آئی ایم ایف پروگرام میں اضافی محصولات کے حصول اور ایف بی آر کی کارکردگی بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی پالیسی عالمی مالیاتی ادارے کے پروگرام کے متفقہ فریم ورک کا حصہ ہے۔ پیٹرولیم کے نرخ کو عالمی قیمتوں سے ہم آہنگ کرنے کیلیے باقاعدہ ایڈجسٹمنٹ پروگرام کا حصہ ہے۔ افراط زر، بے روزگاری، غربت اور کم شرح نمو کو کسی ایک مالیاتی ذریعے سے منسلک کرنا درست نہیں۔ معاشی نتائج پر اجناس کی قیمتوں، شرح مبادلہ، مالیاتی و زری حالات اور عالمی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔‘
وزارت خزانہ نے وضاحت میں مزید کہا کہ مالیاتی استحکام کو اقتصادی ترقی سے الگ نہیں کیا جا سکتا، مالیاتی پائیداری کی بحالی اور زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ پائیدار نجی سرمایہ کاری کیلیے ضروری ہیں، ری فنانسنگ خطرات میں کمی بھی نجی سرمایہ کاری کیلیے ضروری ہے، مالیاتی استحکام نے معاشی عدم توازن، طلب کے دباؤ اور مہنگائی میں کمی میں معاونت کی، اس کے اقدامات سماجی تحفظ کے بغیر نہیں کیے گئے۔
بیان میں کہا گیا کہ آئی ایم ایف پروگرام میں سماجی تحفظ کے واضح اہداف شامل ہیں، بی آئی ایس پی کے تحت امداد کو مہنگائی کے مطابق ایڈجسٹ کرنے کے اقدامات بھی شامل ہیں، کمزور طبقات کے تحفظ کیلیے ہدفی، عارضی اور مالی طور پر پائیدار اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
’گزشتہ مالی سال میں قرضوں میں اضافے کی رفتار 2 دہائیوں کی کم ترین سطح پر رہی۔ زرعی شعبے سے متعلق اصلاحات صرف وزارت خزانہ کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس میں متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں کا بھی کردار ہے، زرعی آمدن پر ٹیکس عائد کرنا آئینی اور انتظامی طور پر صوبائی ذمہ داری ہے، وزارت خزانہ کی ذمہ داری مجموعی پروگرام کی رابطہ کاری ہے۔ پالیسی سازی اور عملدرآمد متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ مناسب پالیسی بحث استحکام بمقابلہ ترقی نہیں بلکہ معاشی استحکام سے پائیدار اقتصادی ترقی کی جانب منتقلی ہے۔ پائیدار ترقی کیلیے ضروری ہے ماضی کی طرح مالیاتی اور بیرونی عدم توازن دوبارہ پیدا نہ ہو۔‘
Frequently Asked Questions
پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی IMF پروگرام کا مرکزی نکتہ ن؟
اسلام آباد (22 ستمبر 2026): وزارت خزانہ نے پاکستان کے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پروگرام سے متعلق گمراہ کن رپورٹنگ پر تفصیلی وضاحت جاری کر دی۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ
Originally reported by ARY News Urdu. Enhanced and optimized for search by TechVeb.
Frequently Asked Questions
پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی IMF پروگرام کا مرکزی نکتہ ن؟
Stay in the loop
Get the latest tech news and AI insights delivered to your inbox. No spam, unsubscribe anytime.
TechVeb Team
Your trusted source for the latest in technology, AI innovations, and digital trends. We bring you in-depth analysis, expert reviews, and comprehensive guides.
Learn more about us →More tech-news News
صدر ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح پہلی بار 29 فی صد رہ گئی
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح اُن کی دونوں صدارتی مدتوں میں پہلی بار 30 فی صد سے نیچے گر کر 29 فی صد رہ گئی ہے۔ امریکن ریسرچ گروپ کے سروے کے
Chinese visitors to Gilgit-Baltistan may get visa on arrival
• Proposal for entry to Hunza, Nagar discussed at SIFC•One-window NOC portal to streamline clearance at Sost• Final rollout pending clearance from higher author
Civil service reform
PAKISTAN cannot become a modern state as long as its bureaucracy continues to be organised around hierarchy, seniority and generalist recruitment. The system ha