
پی ٹی آئی لانگ مارچ: ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار پر سوال
خیبر پختونخوا کے ایڈوکیٹ جنرل شاہ فیصل نے پی ٹی آئی لانگ مارچ کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے صوبائی دائرہ اختیار پر اعتراض اٹھا دیا۔
Key Takeaways
- →ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا۔
- →انہوں نے موقف اپنایا کہ کورٹ دیگر صوبوں کو احکامات جاری نہیں کر سکتی۔
- →پی ٹی آئی لانگ مارچ کیس کی سماعت کے دوران تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔
- →چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے وضاحت کی کہ پہلے حکم نامے میں دلائل درج ہیں۔
- →خیبر پختونخوا حکومت کے مطابق ہائی کورٹ کا دائرہ کار صرف وفاقی دارالحکومت تک ہے۔
Key Takeaways
- ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا۔
- انہوں نے موقف اپنایا کہ کورٹ دیگر صوبوں کو احکامات جاری نہیں کر سکتی۔
- پی ٹی آئی لانگ مارچ کیس کی سماعت کے دوران تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔
- چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے وضاحت کی کہ پہلے حکم نامے میں دلائل درج ہیں۔
- خیبر پختونخوا حکومت کے مطابق ہائی کورٹ کا دائرہ کار صرف وفاقی دارالحکومت تک ہے۔
پی ٹی آئی لانگ مارچ کیس اور دائرہ اختیار کا تنازع
اسلام آباد ہائی کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران خیبر پختونخوا حکومت اور درخواست گزار کے وکیل کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی۔
کے پی کے ایڈوکیٹ جنرل شاہ فیصل نے عدالت کے دائرہ اختیار پر سنگین سوالات اٹھائے۔ اردو پوائنٹ کی رپورٹ کے مطابق، شاہ فیصل نے موقف اختیار کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے پاس دیگر صوبوں کے انتظامی امور میں ہدایت جاری کرنے کا قانونی اختیار نہیں ہے۔
عدالت میں تلخ جملوں کا تبادلہ
سماعت کے دوران ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ درخواست گزار نے خود دلائل دینے کے بجائے اٹارنی جنرل پر انحصار کیا۔ اس پر درخواست گزار کے وکیل نے شدید اعتراض کیا اور موقف اپنایا کہ وہ اپنے دلائل پہلی سماعت میں ہی مکمل کر چکے ہیں۔
بینچ کے سربراہ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے مداخلت کرتے ہوئے واضح کیا کہ پہلی سماعت کے جاری کردہ حکم نامے میں تمام دلائل شامل ہیں۔ اس پر کے پی کے ایڈوکیٹ جنرل نے اپنی غلط فہمی پر عدالت سے معذرت کر لی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے دائرہ کار پر اعتراضات
خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے درج ذیل اہم نکات پیش کیے گئے:
- اسلام آباد ہائی کورٹ کی قانونی حدود صرف وفاقی دارالحکومت تک محدود ہیں۔
- عدالت سندھ یا خیبر پختونخوا کے صوبائی حکام کو احکامات جاری نہیں کر سکتی۔
- ماضی میں بھی دائرہ اختیار نہ ہونے کی بنیاد پر متعدد مقدمات خارج کیے جا چکے ہیں۔
کے پی حکومت نے واضح کیا کہ تمام عدالتی نظام کا احترام واجب ہے، تاہم آئینی حدود اور صوبائی دائرہ کار کی پاسداری بھی اتنی ہی ضروری ہے۔
Frequently Asked Questions
کے پی حکومت نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیا اعتراض اٹھایا؟
کے پی حکومت نے موقف اپنایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار صرف اسلام آباد تک محدود ہے، دیگر صوبوں پر نہیں۔
پی ٹی آئی لانگ مارچ کیس کی سماعت کی صدارت کون کر رہا تھا؟
سماعت بنچ کے سربراہ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کر رہے تھے۔
کیا اسلام آباد ہائی کورٹ صوبائی حکام کو حکم دے سکتی ہے؟
ایڈوکیٹ جنرل کے مطابق آئینی طور پر کورٹ دوسرے صوبوں کے حکام کو براہ راست ہدایت دینے کی مجاز نہیں ہے۔
Frequently Asked Questions
کے پی حکومت نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیا اعتراض اٹھایا؟
پی ٹی آئی لانگ مارچ کیس کی سماعت کی صدارت کون کر رہا تھا؟
کیا اسلام آباد ہائی کورٹ صوبائی حکام کو حکم دے سکتی ہے؟
Stay in the loop
Get the latest tech news and AI insights delivered to your inbox. No spam, unsubscribe anytime.
TechVeb Team
Your trusted source for the latest in technology, AI innovations, and digital trends. We bring you in-depth analysis, expert reviews, and comprehensive guides.
Learn more about us →More business News
Ex-Border Patrol Chief Calls Minneapolis Agent Exit 'Surrender'
Former Border Patrol chief Greg Bovino criticized the Trump administration's Minneapolis withdrawal as a surrender following fatal agent shootings.
TechCrunch Founder Summit 2026: Key Roundtable Highlights
Explore top roundtable topics at TechCrunch Founder Summit 2026, including AI GraphRAG, lean event strategies, and hard market verticals.
Pakistan Petrol Shortage: Senate Raises December Supply Concerns
Senate leaders question Pakistan's petrol availability for December amid Middle East tensions, despite official assurances of stable fuel supplies.