
گلگت بلتستان: وزیر اعلیٰ اور علماء کا انتہا پسندی کے خاتمے پ
وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سے علماء کے وفد کی اہم ملاقات۔ خطے میں بین المسالک ہم آہنگی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے مشترکہ عزم کا اعادہ۔
Key Takeaways
- →قومی پیغامِ امن کمیٹی کے علماء وفد نے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سے ملاقات کی۔
- →ملاقات میں بین المسالک ہم آہنگی اور انتہا پسندی کے خاتمے پر اتفاق ہوا۔
- →وزیر اعلیٰ امجد حسین نے امن کے قیام میں علماء کے کردار کو سراہا۔
- →مفتی عبدالرحیم نے صوبائی پیس کمیٹی کو باقاعدگی سے متحرک رکھنے پر زور دیا۔
- →مشترکہ کوششوں سے گلگت بلتستان کو سیاحت کا مرکز بنانے کا عزم ظاہر کیا گیا۔
Key Takeaways
- قومی پیغامِ امن کمیٹی کے علماء وفد نے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سے ملاقات کی۔
- ملاقات میں بین المسالک ہم آہنگی اور انتہا پسندی کے خاتمے پر اتفاق ہوا۔
- وزیر اعلیٰ امجد حسین نے امن کے قیام میں علماء کے کردار کو سراہا۔
- مفتی عبدالرحیم نے صوبائی پیس کمیٹی کو باقاعدگی سے متحرک رکھنے پر زور دیا۔
- مشترکہ کوششوں سے گلگت بلتستان کو سیاحت کا مرکز بنانے کا عزم ظاہر کیا گیا۔
گلگت بلتستان میں امن و امان اور بین المسالک ہم آہنگی کا فروغ
گلگت میں قومی پیغامِ امن کمیٹی کے ایک اعلیٰ سطحی دینی علماء اور مشائخ کے وفد نے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین سے اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات میں علاقائی امن، بین المسالک ہم آہنگی، اور انتہا پسندی کے مکمل خاتمے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اردو پوائنٹ (اے پی پی) کی رپورٹ کے مطابق، اس وفد میں جامعہ الرشید کے سربراہ مفتی عبدالرحیم، جامعہ بنوریہ عالمیہ کے سربراہ ڈاکٹر مفتی نعمان نعیم، علامہ ضیاء اللہ شاہ، مولانا زاہد منصور، اور علامہ عارف حسین واحدی سمیت دیگر جید علماء شامل تھے۔
علماء کرام کا کلیدی کردار اور حکومتی مؤقف
ملاقات کے دوران وزیر اعلیٰ امجد حسین نے علماء کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اپنے دینی رہنماؤں پر فخر ہے جنہوں نے ہمیشہ مشکل وقت میں ریاست کا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مادی وسائل سے زیادہ قومی اتحاد ہی ملک کی اصل طاقت ہے۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا:
- حقیقی امن کا مطلب دلوں سے نفرت کا خاتمہ اور ایک دوسرے کی شناخت کا احترام ہے۔
- گلگت بلتستان بین المذاہب اور بین المسالک ہم آہنگی کی ایک بہترین مثال ہے۔
- اختلاف رائے ممکن ہے، لیکن نفرت اور تقسیم کسی صورت قابل قبول نہیں، اور نوجوانوں کو علم کی طرف راغب کرنا ضروری ہے۔
سیاحت کا فروغ اور پیس کمیٹی کی فعال سازی
اس موقع پر مفتی عبدالرحیم نے گلگت بلتستان حکومت سے پروینشل پیس کمیٹی کی سرپرستی کرنے اور باقاعدگی سے اجلاس منعقد کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ علماء فرقہ واریت کے خاتمے میں فعال کردار ادا کرتے رہیں گے۔ مشترکہ کوششوں کے ذریعے گلگت بلتستان کو ایک پائیدار اور خوشحال سیاحتی مرکز بنایا جا سکتا ہے۔
Frequently Asked Questions
گلگت بلتستان میں علماء کے وفد نے کس سے ملاقات کی؟
علماء و مشائخ کے اعلیٰ سطحی وفد نے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین سے ملاقات کی۔
اس اہم ملاقات کا بنیادی مقصد کیا تھا؟
ملاقات کا مقصد علاقائی امن، بین المسالک ہم آہنگی کا فروغ اور انتہا پسندی کا خاتمہ تھا۔
وفد میں کون سے نمایاں دینی علماء شامل تھے؟
وفد میں مفتی عبدالرحیم، ڈاکٹر مفتی نعمان نعیم، علامہ ضیاء اللہ شاہ اور علامہ عارف حسین واحدی شامل تھے۔
Originally reported by UrduPoint. Enhanced and optimized for search by TechVeb.
Frequently Asked Questions
گلگت بلتستان میں علماء کے وفد نے کس سے ملاقات کی؟
اس اہم ملاقات کا بنیادی مقصد کیا تھا؟
وفد میں کون سے نمایاں دینی علماء شامل تھے؟
Stay in the loop
Get the latest tech news and AI insights delivered to your inbox. No spam, unsubscribe anytime.
TechVeb Team
Your trusted source for the latest in technology, AI innovations, and digital trends. We bring you in-depth analysis, expert reviews, and comprehensive guides.
Learn more about us →