
پنجاب کا مینٹل ہیلتھ پالیسی فریم ورک 2026-2035 تیار
پنجاب حکومت نے ذہنی صحت کی بہتری کے لیے 2026-2035 کا پالیسی فریم ورک تیار کر لیا۔ کے ای ایم یو میں اہم مشاورتی اجلاس کا انعقاد۔
Key Takeaways
- →پنجاب میں دہائی پر محیط مینٹل ہیلتھ پالیسی فریم ورک 2026-2035 کا آغاز۔
- →کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں اہم صوبائی مشاورتی اجلاس کا انعقاد۔
- →ذہنی امراض کے شکار افراد کی کونسلنگ اور بحالی پر خصوصی توجہ۔
- →وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کا معیاری سہولیات کی فراہمی کا عزم۔
- →عالمی اداروں اور طبی ماہرین کے تعاون سے مربوط حکمت عملی کی تشکیل۔
Key Takeaways
- پنجاب میں دہائی پر محیط مینٹل ہیلتھ پالیسی فریم ورک 2026-2035 کا آغاز۔
- کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں اہم صوبائی مشاورتی اجلاس کا انعقاد۔
- ذہنی امراض کے شکار افراد کی کونسلنگ اور بحالی پر خصوصی توجہ۔
- وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کا معیاری سہولیات کی فراہمی کا عزم۔
- عالمی اداروں اور طبی ماہرین کے تعاون سے مربوط حکمت عملی کی تشکیل۔
پنجاب میں ذہنی صحت کی دیکھ بھال کے لیے نیا فریم ورک
پنجاب حکومت نے صوبے میں ذہنی صحت کے نظام کو جدید اور موثر بنانے کے لیے 'مینٹل ہیلتھ پالیسی فریم ورک (2026-2035)' متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اردو پوائنٹ (اے پی پی) کے مطابق، صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی (KEMU) میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس کے دوران اس عزم کا اظہار کیا۔
خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کے وژن کے تحت صوبے بھر میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنایا جا رہا ہے اور نئے ہسپتالوں کا نیٹ ورک قائم کیا جا رہا ہے۔
پالیسی کے اہم اہداف اور ترجیحات
اجلاس کے دوران ذہنی امراض میں مبتلا افراد کی دیکھ بھال اور علاج کے لیے درج ذیل اہم نقطہ ہائے نظر پر اتفاق کیا گیا:
- مؤثر کونسلنگ اور بحالی: ذہنی علاج میں کونسلنگ کے کردار کو بنیادی اہمیت دی جائے گی۔
- معاشرتی نقطہ نظر میں تبدیلی: ذہنی مریضوں کو معذور سمجھنے کے بجائے ان کی صلاحیتوں کی قدر کی جائے گی۔
- بین الاقوامی تعاون: عالمی اداروں کے ساتھ مل کر اگلے ایک عشرے کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کی جائے گی۔
ماہرین کی آراء کا احترام
کے ای ایم یو کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمود ایاز نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پالیسی سازی میں میڈیکل ماہرین کی تجاویز کو شامل کرنا حکومت کا ایک مثبت قدم ہے۔ یہ شراکت داری پاکستان میں مینٹل ہیلتھ کی دیکھ بھال میں اہم پیش رفت ثابت ہوگی۔
Frequently Asked Questions
پنجاب کی نئی مینٹل ہیلتھ پالیسی 2026-2035 کیا ہے؟
یہ ایک دس سالہ جامع فریم ورک ہے جس کا مقصد پنجاب میں ذہنی صحت کی دیکھ بھال، کونسلنگ اور مریضوں کی بحالی کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔
مینٹل ہیلتھ پالیسی کا مشاورتی اجلاس کہاں منعقد ہوا؟
یہ اجلاس کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی (KEMU) لاہور میں منعقد ہوا جس میں طبی ماہرین اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اس پالیسی کے تحت مریضوں کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے؟
مریضوں کو معیاری طبی سہولیات، جدید کونسلنگ اور سماجی بحالی کے مواقع فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ معاشرے کا فعال حصہ بن سکیں۔
Originally reported by UrduPoint. Enhanced and optimized for search by TechVeb.
Frequently Asked Questions
پنجاب کی نئی مینٹل ہیلتھ پالیسی 2026-2035 کیا ہے؟
مینٹل ہیلتھ پالیسی کا مشاورتی اجلاس کہاں منعقد ہوا؟
اس پالیسی کے تحت مریضوں کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے؟
Stay in the loop
Get the latest tech news and AI insights delivered to your inbox. No spam, unsubscribe anytime.
TechVeb Team
Your trusted source for the latest in technology, AI innovations, and digital trends. We bring you in-depth analysis, expert reviews, and comprehensive guides.
Learn more about us →More education News
338 police officers, personnel complete Riot Management Cour
شہید ایس پی اکبر شنواری کے بیٹے کا تعلیم سے انتقام کا عزم
شہید ایس پی اکبر شنواری کے بیٹے نے والد کی شہادت پر سلامی دیتے ہوئے تعلیم کے ذریعے مقصد پورا کرنے اور آرمی ڈاکٹر بننے کا عزم ظاہر کیا۔